بین الاقوامی

  • بین الاقوامی
  • Aug 25, 2018

فلسطین کو دی جانے والی 20کروڑ کی معاشی امداد بند

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کو دی جانے والی 20 کروڑ ڈالر کی معاشی امداد روک دی ہے۔امریکی صدر کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامے کہا گیا ہے کہ یہ امدادکہیں اور منتقل کر دی جائے۔
وزارتِ خارجہ کے ایک عہدے دار کہا کہ یہ فیصلہ یہ یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ رقم امریکی مفادات کے مطابق استعمال کی جائے۔
واضح رہے کہ امریکہ پہلے ہی فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روک چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکہ کے فلسطینوں سے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان دراڑ اس وقت وسیع ہو گئی جب امریکہ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے امریکہ دونوں فریقین میں ثالثی کروانے کا اہل نہیں رہا۔
امریکہ انتظامیہ نے حالیہ امداد جون میں منظور ہونے والے ٹیلر فورس ایکٹ نامی قانون کی رو سے معطل کی ہے۔
یہ قانون فلسطینی حکام کو پابند کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرنے والے سزایافتہ دہشت گردوں کے خاندانوں کو وظیفہ دینا بند کرے۔
جمعے کو امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ رقم دوسرے ترجیحی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، تاہم انھوں نے تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
لائیو بیپر ۔۔منصور جعفر ایڈیٹر خلیج ٹائمز