ٹاپ سٹوری

  • ٹاپ سٹوری
  • Jun 11, 2016

اکیس مئی کا ڈرون حملہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی تھا : سرتاج عزیز

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے حالیہ ڈرون حملے پر امریکہ کو سخت پیغام دیتے واضح کیا ہے کہ اکیس مئی کا ڈرون حملہ نہ صرف پاکستان کی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف تھا بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ۔
انھوں نے یہ پیغام اسلام آباد میں امریکی وفد سے گفتگو میں دیا۔ امریکی وفد میں پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ اولسن اور قومی سلامتی کونسل کے جنوبی ایشیاء کے لئے سینئر ڈائریکٹر پیٹر لوائے شریک تھے ۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ مستقبل میں کوئی بھی ڈرون حملہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط کرنے کی مشترکہ خواہش کیلئے نقصان دہ ہوگا۔
سرتاج عزیز نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے سے افغان مفاہمتی عمل کے لئے کی جانے والی کوششوں کو دھچکا لگا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملہ ایسے وقت ہوا جب پاکستان چار ملکی رابطہ گروپ کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر افغان مفاہمتی عمل کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا تھا ۔
خارجہ سیکرٹری اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ چار ملکی رابطہ گروپ نے افغان مسئلے کے سیاسی حل کے لئے امن مذاکرات کو واحد راستہ قرار دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن کیلئے رابطہ گروپ کو مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی ۔ پاکستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کے امریکی وفد کے سوال پر پاکستانی وفد نے کہا کہ پاکستان قومی لائحہ عمل کے تحت اپنی سر زمین سے تمام دہشتگرد گروپوں کو ختم کرنے کے عزم پر کاربند ہے ۔ پاکستان کو بہترسرحدی نظام اور افغان مہاجرین کی جلد واپسی سے اپنی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان فورسز بھی افغانستان میں تحریک طالبان کے خلاف کارروائی کریں ۔ایسے اقدامات سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی بہتر ہوں گے ۔
پیٹر لوائے نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی جلد صحت یابی کے لئے امریکی صدر براک اوباما کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے پرعزم ہیں جس پر اکتوبر دو ہزار پندرہ میں وزیراعظم محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ کے دوران زوردیاگیا تھا ۔