قومی

  • قومی
  • Oct 18, 2020

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع اسلام آباد میں ایک نوجوان کو شہید کردیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے نوجوا ن کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ نوجوان کی شہادت پر علاقے میں زبردست بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارت کے کشمیر مخالف اقدا مات کی مزاحمت جاری رکھنے کے عز م کا اعادہ کیا ۔ بیان میں کہا گیا کہ ریاستی عوام ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی 27اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے تاکہ بھارت کو باورکرایا جاسکے کہ کشمیر کے لوگ اپنی سرزمین پر اس کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کر تے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے قتل عام، انہیں بصارت سے محروم اور گرفتار کرنے اور املاک کو تباہ کرنے کی سفاکانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔
میر واعظ کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے ایک بیان میں کہا کہ آزادی کی آواز اور سچائی کو دبانے کیلئے بھارت نے کشمیری عوام اور مقامی میڈیا کے خلاف جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں میں تیزی لائی ہے۔ فورم نے کہا کہ کشمیر میں صحافی اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پیشہ ورانہ فرائض انجا م دے رہے ہیں۔
سینئر حریت رہنما غلام محمد خان سوپوری اور جموں وکشمیر یوتھ سوشل فورم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں خون ریزی روکنے کیلئے تنازعہ کے حل کیلئے کردار ادا کرے۔
انسانی حقوق کے کارکن محمد احسن اونتو نے افسوس ظاہر کیا کہ بھارتی حکام نے تحریک حریت جموں وکشمیر کے غیرقانونی طور پر نظر بند چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی زندگی کوجیل میں خطرے میں ڈال دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج اپنے گھناؤنے چہرے کو خیر سگالی کے نام نہاد اقدامات کے پیچھے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 1989 سے رواں برس 30 ستمبر تک95ہزار6سو افراد کے قتل ، گیارہ ہزار سے زائد خواتین کی آبروریزی اور ایک لاکھ گیارہ ہزار کے لگ بھگ عمارتوں کی تباہی نے بھارتی فوج کا حقیقی چہرہ عیاں کر دیا ہے۔