قومی

  • قومی
  • Apr 08, 2021

بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع شوپیان میں تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نوجوانوں کو فوجیوں نے ضلع کے علاقے جان محلہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے کے تہذیبی ، تعلیمی اور معاشی تانے بانے بکھیرنے کے بھارتی منصوبوں کی شدید مذمت کی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی حکام کی طرف سے اٹاری سرحد اور نئی دلی ائر پورٹ پر کشمیری طلباءکے ساتھ برتاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ بیان میں افسوس ظاہر کیا گیا کہ طلبا کو سفری دستاویزات کے باوجود پاکستان نہیں جانے دیا گیا جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جارحیت کے شکار کشمیریوں کی زندگی اور عزت و وقار کو محفوظ بنایا جائے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے ورکنگ وائس چیئرمین غلام احمد گلزار کی صدارت میں سرینگر میں منعقدہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں کی نسل کشی کی مذمت کی ۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کی صحافتی تنظیموں نے بھارتی پولیس کے انسپکٹر جنرل کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ محاصرے اور تلاشی والے مقامات کے قریب نہ ٓائیں اور اس طرح کی کارروائیوں کی کوریج سے باز رہیں۔مقبوضہ علاقے کی بارہ صحافتی تنظیموں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انسپکٹر جنرل کے بیان سے صحافتی برادری میں اضطراب پیدا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار محمد احسن اونتو نے انسپکٹر جنرل کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلے ہی مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو اپنے پیشہ وارانہ فرئض کی آزادانہ طریقے سےانجام دہی سے روک رکھا ہے۔
حریت رہنماؤں مختار احمد وازہ ، عبدالصمد انقلابی اور جموںوکشمیر یوتھ سوشل اینڈ جسٹس لیگ نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں تنازعہ کشمیر کے پر امن حل پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ تنازعے کے حل میں مزید تاخیر سے جنوبی ایشیاءکے خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔