بین الاقوامی

  • Jul 29, 2021

افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کی پیش قدمی

افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہےاور متعدد اضلاع سےافغان فورسز کو پسپا کر دیا گیاہے،تاہم افغان فوج نے کچھ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے بیشتر علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے جن میں ملک کے شمالی، شمال مشرقی اور وسطی صوبے شامل ہیں۔ طالبان اب ملک کے بڑے شہروں قندوز، ہیرات، قندہار اور لشکر گاہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
افغان حکومت کا کہناہے کہ اس نے بڑے شہروں جو طالبان کی پیش قدمی کی زد میں ہیں وہاں فوجی کمک بھیج دی ہے اور تقریباً ملک بھر میں رات کے وقت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا تاکہ طالبان کے حملوں کو روکا جا سکے۔طالبان ہیرات اور قندہار کے قریب آتے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ان پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔
ملک میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے بہت سے علاقوں سے لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں اوراعدادوشمار کے مطابق 3 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے مطابق بدخشاں، قندوز، بلخ، بغلان اور تخار کے وسیع علاقوں پر طالبان کے قبضے کی وجہ سے اندرون ملک مہاجرین کی ایک نئی لہر آ گئی ہے۔
طالبان نے افغانستان کے کئی اہم داخلی راستوں پر قبضہ کر لیا ہے جن میں سپن بولدک کی اہم سرحدی گزر گاہ بھی شامل ہے۔ان سرحدی چوکیوں سے گزرنے والے تجارتی مال پر طالبان کسٹم اور دیگر محصولات بھی وصول کر رہے ہیں ۔ لڑائی کی وجہ سے تجارت کا حجم بھی کم ہو گیا ہے۔ درآمدات اور برآمدات میں تعطل آنے سے ملک کے اندر منڈیوں میں خوارک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔