بین الاقوامی

  • Jul 30, 2021

طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری

افغانستان میں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے ملک کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا ہےاور وہ اہم شہروں اور قصبوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔کابل انتظامیہ نے طالبان کی پیش قدمی روکنے کیلئے فوج کو منظم کر لیا ہے۔بڑے شہروں کی حفاظت کیلئے مزید فوجی دستے روانہ کر دیئے ہیں۔طالبان کے حملوں کو روکنے کیلئےرات کے اوقات میں پورے ملک میں کرفیو کانفاذ جاری ہے۔

دوسری جانب پناہ کیلئےافغان شہريوں کا پہلا گروپ امريکہ پہنچ گيا۔برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق افغانستان ميں امريکی فوجی دستوں کے ساتھ کام کرنے والے افراد کا پہلا گروپ پناہ کے ليے امريکا پہنچا ہے۔ ايک خصوصی پرواز کے ذريعے 72بچوں سمیت221 افغان شہريوں کو واشنگٹن کے ہوائی اڈے پرپہنچاديا گيا۔ ان ميں اکثريت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے امريکی دستوں کے ساتھ بطورمترجم کام کیا ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہيں جان کے خطرے کے پيش نظر اہل خانہ سمیت امريکہ منتقل کيا جا رہا ہے۔

روس اور ازبکستان کی افواج نے ازبک افغان سرحد پر مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے۔ مشقوں کا مقصد پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور داعش کے خطرےکو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ایسی مشقیں افغانستان کے ایک اورہمسایہ ملک تاجکستان کے ساتھ بھی ایک ہفتے بعد کی جائیں گی۔روس نے کہا ہے کہ وہ تاجکستان کی فوج کو ہتھیاروں ، سازو سامان اور تربیت سے لیس کرےگا۔
سنٹرل ملٹری ڈسٹرکٹ کے مطابق مشترکہ مشقوں میں 1500 فوجی اور 200 یونٹ حصہ لے رہےہیں۔ مشترکہ مشقوں میں کرغزستان سے ملحقہ روس کے فوجی اڈے پر قائم حملہ آور طیارے بھی حصہ لیں گے۔ اگلے مرحلے میں روسی ، ازبک اور تاجک افواج 5 اگست کو سہہ فریقی مشقوں میں شریک ہونگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشقیں 10 اگست تک جاری رہیں گے۔