بین الاقوامی

  • Sep 15, 2021

یورپی یونین کا افغانستان کے لیے انسانی امدادکے طورپر10 کروڑ یورو اضافی دینے کااعلان

یورپی یونین نے افغانستان کے لیے انسانی امدادکے طورپر10 کروڑ یورو اضافی دینے کااعلان کیاہے۔
اس بات کااعلان یونین کی سربراہ ارسولاوون ڈیرلین نے فرانس کےشہراسٹراسبرگ میں یورپی یونین کی سالانہ تقریب سے خطاب کےدوران کیا۔ارسولاوون ڈیرلین نےکہاکہ افغانستان کےلئے انسانی امداد میں اضافہ کرناوقت کاتقاضاہے۔ ہمیں افغانستان میں ایک بڑے قحط اور انسانی بحران کے خطرے کے پیش نظرسنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نےکہاکہ یورپی یونین نے "افغان عوام" کا ساتھ دینے کا وعدہ کیاہے جس میں مزیداضافہ بھی کیاجائےگا۔
یورپی یونین رواں سال میں افغانستان کےلئے امداد کو چار گنا بڑھا کر 20کروڑ یورو تک بڑھاچکاہے۔

یورپی یونین کےایک اعلیٰ سفارتکارنے کہاہے کہ یونین کے پاس افغانستان میں طالبان سے بات چیت کےسوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اورہم کابل میں یورپ کی سفارتی موجودگی کیلئے رکن ممالک کے ساتھ رابطہ کریں گے ۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے یورپی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہاکہ طالبان کے ساتھ ہمارے روابط کی نوعیت کا انحصار نئی افغان حکومت کےاقدامات پرہوگا ۔یورپی یونین نے افغانستان کی امداد اورسفارتی تعلقات کےلئے انسانی حقوق خاص طور پرخواتین کے حقوق یقینی بنانے کی شرط عائد کی تھی ۔

قطر نے کہاہےکہ اگر کوئی واضح معاہدہ نہ کیا گیا تو دوحہ حکومت کابل ایئرپورٹ کو چلانے کی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ سکتی ہے۔
قطرکےوزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ معاہدے میں طالبان سمیت سب کا شامل ہونا ضروری ہے اور تمام تر نکات پر واضح اتفاق ہونا چاہیئے۔قطری وزیرخارجہ کایہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حال ہی میں انہوں نے کابل کا دورہ کیا ہے۔

افغانستان کے مرکزی بینک کےقائم مقام سربراہ حاجی محمد ادریس کاکہنا ہےکہ ملک کے بینک محفوظ ہیں اور ان میں ماضی کی نسبت بہتراندازمیں امورانجام دیئےجارہےہیں۔حاجی محمد ادریس نے اپنےایک بیان میں کہاکہ ملک میں معاشی صورتحال کے پیش نظر تمام بینک، ملکی تاجر اور تمام فارن ایکسچینج کمپنیاں جلد معمول پرآجائیں گی اوروہ مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے کاروباری امور جاری رکھ سکیں گی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اگرمغربی ممالک نےافغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد رکھے اوران سے روابط کومحدودکیاتوافغان بینک اور کمپنیوں میں پیسےجلد پیسے ختم ہونے کا خطرہ بڑھ جائےگا۔
ایران نےافغانستان کے لئےدوبارہ مسافرپروازوں کاآغازکردیاہے۔
بین لاقوامی خبررساں ادارےکےمطابق ایران نےگزشتہ ماہ پروازیں معطل کردیں تھیں۔
ایران کےسرکاری میڈیاکے مطابق ایران کی ایئر لائن ماہان ایئر کا طیارہ مشہدسےکابل پہنچا،جس میں19مسافر سوار تھے۔ ایران کی سول ایوی ایشن ایجنسی کاکہنا ہےکہ افغانستان سے پروازیں معطل کرنے کافیصلہ سکیورٹی خدشات کےباعث کیا تھا۔