بین الاقوامی

  • Aug 04, 2022

امریکی سپیکرنینسی پلوسی کا دورہ تائیوان : چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی

امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکرنینسی پلوسی کے دورہ تائیوان سے چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔چینی انتباہ کے باوجود نینسی پلوسی نے اپنے دورے میں تائیوان کی لیڈر سائی انگ۔ وین سے ملاقات کی اور تعلقات کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔ ملقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور تائیوان بین الاقوامی شراکت داری میں ایک دوسرے کے لئے مفید تعاون کے خاطر کاروائیاں جاری رکھیں گے۔ نینسی پلوسی نے کہا کہ ہم تائیوان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ امریکہ ون چائنا پالیسی کا احترام کرتا ہے لیکن اس وقت تائیوان کے ساتھ تعاون ہمیشہ سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے نینسی پلوسی کے دورے کو کھلا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک جارحانہ اقدام اور ہماری خود مختاری کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے تائیوان جزیرے کے ارد گرد مشترکہ فوجی مشقیں شروع کی ہیں ۔ان مشقوں سمندر اور ہوا سے متعدد سمتوں میں تیز رفتار پیش قدمی اور جنگی صلاحیتیں جانچنے پر توجہ مرکوز ہے۔ چینی حکام کے مطابق
طویل فاصلے تک براہ راست فائر کرنے کے ساتھ میزائل تجربات بھی کیے جائیں گے۔
دوسری طرف انڈونیشیا میں امریکہ کی سربراہی میں چودہ ملکوں کی فوجی مشقیں جاری ہیں ۔ 14 اگست تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں آسٹریلیا، جاپان ، جنوبی کوریا اور دیگر ملکوں کے پانچ ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تائیوان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ون چائنا پالیسی کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مضبوطی کے ساتھ حمایت کرتا ہے۔تائیوان کی صورتحال کے علاقائی امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔