بین الاقوامی

  • Sep 23, 2022

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا جنرل اسمبلی سے خطاب: اقوام متحدہ سےماسکو کو فوجی حملہ کرنے کی سزا دینے کامطالبہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نےاقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ ماسکو کو فوجی حملہ کرنے کی سزا دی جائے۔صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کا ویٹو حق ختم کر یں۔صدر زیلنسکی نے کہا کہ کیف پائیدارقیام امن کےلئے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کرتاہے، جس میں ماسکو کوجارحیت کی سزا دینے کے ساتھ یوکرین کی سلامتی،علاقائی سالمیت کی بحالی اورسکیورٹی کی ضمانت شامل ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی مداخلت کے باوجود یوکرین میں جوہری پاور پلانٹ پر حملوں کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ روس اور یوکرین نے ’’ژاپوریزہیا‘‘ ایٹمی پلانٹ پر تازہ حملے کا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ حملے میں پلانٹ کے ایک پائپ کو نقصان پہنچا ہے۔
ادھر روس اور یوکرین نے تین سو قیدیوں کا تبادلہ کیاہے۔ ان میں 10غیر ملکی قیدی اور یوکرین کے وہ کمانڈر بھی شامل ہیں جو ماریوپول شہر کا دفاع کر رہے تھے۔قیدیوں میں امریکا، برطانیہ اور مراکش کے باشندے بھی شامل ہیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہے۔ روس نے 215 یوکرینی قیدیوں کو رہا کیا ہے جبکہ یوکرین نے55 قیدیوں کو رہا کیا ہے جن میں روس نواز پارٹی کے رہنما وکٹر میدویداور یوکرین کی ’’ازوو‘‘ بٹالین کے کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر بھی شامل ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتہ سعودی عرب اور ترکی کی مدد سے طے پایا ہے۔